Recent Articles
Home » Posts filed under VeLaNtine PoEtry
Showing posts with label VeLaNtine PoEtry. Show all posts
Showing posts with label VeLaNtine PoEtry. Show all posts
Wednesday, 17 February 2016
میں جب بھی اس سے کہتا ہوں
مجھے تم سے محبت ہے
وہ مجھ سے پوچھتی ہے کہ
بتاؤ نا! کہ کتنی ہے؟
میں بازو کھول کر کہتا ہوں کہ
زمیں سے آسماں تک ہے
فلک کی کہکشاں تک ہے
میرے دل سے تیرے دل تک
مکاں سے لا مکاں تک ہے
وہ کہتی ھے، کہ بس اتنی!!!
میں کہتا ھوں
یہ بہتی ھے
لہو کی تیز حدت میں
میرے جذبوں کی شدت میں
تیرے امکاں کی حسرت کی
میرے وجداں کی جدت میں
وہ کہتی ہے
نہیں کافی ابھی تک یہ
میں کہتا ہوں
ہوا کی سرسراہٹ ہے
تیرے قدموں کی آھٹ ہے
کسی شب کے کسی پل میں
مجسم کھنکھناہٹ ہے
وہ کہتی ہے یہ کیسےمحسوس ہوتی ھے؟؟
میں کہتا ہوں
چمکتی دھوپ کی مانند
بلوریں سوت کی مانند
صبح کی شبنمی رت میں
لہکتی کوک کی مانند
وہ کہتی ھے
مجھے بہکاوے دیتے ہو؟
مجھے سچ سچ بتاؤ نا
مجھے تم چاھتے بھی ہو
یا بس بہلاوے دیتے ہو؟
میں کہتا ہوں
مجھے تم سے محبت ہے
کہ جیسے پنچھی پر کھولے
ہوا کے دوش پر جھولے
کہ جیسے برف پگھلے اور
جیسے موتیا پھولے
وہ کہتی ھے
مجھے الو بناتے ہو!!
مجھے اتنا کیوں چاہتے ھو؟
میں اس سے پوچھتا ہوں اب
تمھیں مجھ سے محبت ہے؟
بتاؤ نا کہ، کتنی ہے
وہ بازو کھول کے
مجھ سے لپٹ کے
جھوم جاتی ہے
میری آنکھوں کو کر کے بند
مجھ کو چوم جاتی ھے
دکھا کے مجھ کو وہ چٹکی
دھیرے سے مسکراتی ھے
میرے کانوں میں کہتی ھے
فقط اتنی
بس اتنی سی۔۔۔۔!!
Monday, 13 February 2012
Chalo Es Velantive Pr Kuch Aisa Karty Hain,
Pichly Bars K Sookhey Pholon Ko,
Apni Chahton Se Taza Karty Hain,
Or Phir Ajj K In Pholon Se,
Un Mein Azafa Karty Hain.
Chalo Es Velantine Pr Kuch Aisa Karty Hain,
Kuch Pal K Liye Hum Ajnabi Banty Hain,
Ek Aam Se Sada Kagiz Pr,
Ek Lafz ?MOHABAT? Likhty Hain,
Or Phir Es Lafz K Ehsas Ko,
Ek Naye Andaz Se Milty Hain,
Chalo Es Velantine Pr Kuch Aisa Krty Hain,
Apny Sary Gham Apny Sary Dukh,
Tum Mujhy De Dena,
Meri Sari Khushiyan Mery Sary Sukh,
Tum Rakh Lena,
Rab Se Kuch Es Tarah Ki Dua Karty Hain
Chalo Es Velantine Pr Kuch Aisa Karty Hain.
Hapy VeLaNtine Day
Subscribe to:
Posts (Atom)

